7 total
اس سبق میں آپ یہ سیکھیں گے:
یونس جاوید اردو کے ایک مشہور افسانہ نگار اور ڈرامہ نگار ہیں۔ افسانہ نگار وہ لکھاری ہوتا ہے جو چھوٹی کہانیاں لکھتا ہے جنہیں "افسانے" کہا جاتا ہے۔
چند اہم باتیں:
یونس جاوید کی لکھائی کی کچھ خاص باتیں ہیں جو انہیں دوسرے لکھاریوں سے الگ بناتی ہیں:
افسانہ "دستک" جدید دور کی معاشرتی بے حسی کی کہانی ہے۔ معاشرتی بے حسی کا مطلب ہے کہ لوگ اپنے ارد گرد کے لوگوں کے دکھ درد سے بالکل غافل (بے خبر) ہو جاتے ہیں اور کوئی مدد کرنے کو تیار نہیں ہوتا۔
یونس جاوید اس افسانے میں یہ دکھانا چاہتے ہیں کہ:
پہلی دستک: راوی (کہانی بیان کرنے والا) گلی سے گزر رہا ہوتا ہے۔ وہ ایک انجان آدمی کو تھڑے پر بیٹھا دیکھتا ہے جو شاید ذہنی طور پر ٹھیک نہیں۔ وہ آدمی راوی کے پیچھے پیچھے اس کے گھر کے دروازے تک آ جاتا ہے۔ راوی بغیر سنے اندر چلا جاتا ہے اور دروازہ بند کر لیتا ہے۔ اس کے فوراً بعد دستک ہوتی ہے — یہ پہلی دستک ہے۔
آدمی کی حالت: راوی کھڑکی کھول کر دیکھتا ہے۔ وہ آدمی کہتا ہے:
راوی کا رویہ: راوی دیکھتا ہے کہ آدمی نے صرف ایک پھٹی، میلی قمیص پہن رکھی ہے۔ کلائیوں کی رگیں سردی سے نیلی پڑ چکی ہیں۔ مگر وہ اسے کہتا ہے: "کل آنا" — اور کھڑکی بند کر لیتا ہے۔
کوٹ ڈھونڈنے کی کوشش: راوی اس آدمی کو کوئی گرم کپڑا دینے کی سوچتا ہے، لیکن ہر کوٹ کے ساتھ اس کی کوئی نہ کوئی یاد جڑی ہوتی ہے، ہر ٹائی کسی عزیز دوست کی دی ہوئی ہے اور ہر کوٹ سے میچ کرتی ہے — اس لیے وہ کوئی بھی کوٹ نہیں دے پاتا۔ یہ دراصل خود غرضی اور بہانے بازی کی مثال ہے۔
بیوی کا کردار: بیوی شروع سے اس دستک پر پریشان ہے۔ وہ سمجھتی ہے کہ شوہر نے وعدہ کر کے غلطی کی۔ راوی اپنی غلطی تسلیم نہیں کرتا اور بیوی کو "جھگڑالو" کہتا ہے۔
چوتھی دستک: آدمی پھر آتا ہے اور کہتا ہے: "مجھے اندر آنے دیجیے، باہر بہت ٹھنڈ ہے۔" راوی کہتا ہے: "جان نہ پہچان اندر آنے دوں؟" آدمی کا جواب بہت اہم ہے: "آپ جانتے ہیں مجھے۔" — یعنی انسانیت کا رشتہ سب رشتوں سے بڑا ہے۔
یہ افسانہ ہمیں آئینہ دکھاتا ہے — یعنی ہمیں خود ہمارا چہرہ دکھاتا ہے کہ ہم کتنے بے حس ہو چکے ہیں۔ یونس جاوید چاہتے ہیں کہ پڑھنے والا سوچے: "کیا میں بھی ایسا ہی ہوں؟"
Sign in to view full notes