7 total
ان نوٹس کو پڑھنے کے بعد آپ یہ کر سکیں گے:
مجموعی مفہوم (Gist) سے مراد ہے کسی عبارت کو پڑھ کر یہ سمجھنا کہ اس کا اصل موضوع اور بنیادی خیال کیا ہے۔
جب آپ کوئی عبارت پہلی بار پڑھتے ہیں، تو آپ ہر لفظ پر نہیں رُکتے — بلکہ آپ پوری عبارت کا مجموعی پیغام سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔
🔹 آسان مثال: ایک اخبار کا مضمون پڑھا جس میں لکھا ہے کہ پانی کا استعمال بڑھ رہا ہے، ندیاں سوکھ رہی ہیں، اور لوگوں کو تکلیف ہو رہی ہے۔ آپ نے یہ نہیں پوچھا کہ ہر جملے کا مطلب کیا ہے — بلکہ آپ نے فوراً سمجھ لیا کہ یہ مضمون پانی کی کمی کے بارے میں ہے۔ یہی مجموعی مفہوم ہے۔
قدم ١: عبارت کو ایک بار تیزی سے پڑھیں — ہر لفظ پر نہ رُکیں۔
قدم ٢: اپنے آپ سے یہ سوال پوچھیں:
قدم ٣: ایک جملے میں اس خیال کو اپنے الفاظ میں لکھیں۔
قدم ٤: واپس جائیں اور اہم الفاظ یا جملوں کو نشان لگائیں جو آپ کی سوچ کی تصدیق کریں۔
مصنف کا مقصد (Writer's Purpose) یہ ہے کہ لکھنے والا کیوں لکھ رہا ہے — اس کا کیا ارادہ ہے۔
ہر لکھنے والے کا ایک خاص مقصد ہوتا ہے۔ وہ مقصد عموماً ان میں سے ایک ہوتا ہے:
| مقصد | وضاحت | مثال |
|---|---|---|
| آگاہ کرنا | قاری کو کوئی نئی معلومات دینا | سائنسی مضمون |
| قائل کرنا | قاری کو اپنی بات سے متفق کروانا | اخباری کالم |
| تفریح دینا | قاری کو خوشی یا لطف دینا | کہانی یا ناول |
| ہدایت دینا | کچھ کرنے کا طریقہ بتانا | ہدایت نامہ |
| احساسات جگانا | قاری کے جذبات کو چھونا | شاعری یا ذاتی تجربہ |
یہ سوالات خود سے پوچھیں:
یاد رکھیں: بعض اوقات ایک عبارت میں ایک سے زیادہ مقاصد ہو سکتے ہیں۔ جیسے کوئی مضمون آگاہ بھی کرے اور قائل بھی کرے۔
Sign in to view full notes